871

اسلامی جمہوریہ ء پاکستان کوسردار انبیا ﷺکے شہر مدینہ جیسی مملکت بنانے کا خوش کن پیغام

۱۴ اگست ۲۰۱۸کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کاخطاب
۱
اسلامی جمہوریہ ء پاکستان کے ۲۲۔۲۳ کروڑ ۔ ۔۔۔۔۔!۔ مسلم امہ اور انکی نسلوں کو مبارک ہو کہ ۱۹۴۷ کے بعد لا الہ الا اللہ محمدالرسول اللہ کے نام پر حاصل کئے ہوئے پاکستان جیسے الہامی روحانی نظریاتی ملک کو سردار انبیا ﷺکے شہر مدینہ جیسی مملکت بنانے کی بات پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی کرنا اوراسی طرح انکی بیگم خاتون اول بشریٰ بی بی جو پاکستان کی پہلی خاتون اول ہیں جنہوں نے نقاب پوشی کے لباس کے ذریعے اسلامی چادر و چادیواری کے دستور حیات کے نظام کی عزت و حرمت پاکستان ڈے( چودہ اگست ۲۰۱۸ ) کی تقریب میں شامل ہو کر قائم کی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اسلامی جمہوریہ ء پاکستان میں اسلامی نظام مملکت،اسکا اسلامی نظام سلیکشن،اسکے سلیکٹڈ ممبران کے سپرد نظام مملکت کرنے ، اسلامی دستور حیات کا نظام جاری کرنے،پاکستان کو سردار انبیاﷺکے شہر مدینہ جیسی ریاست بنانے، اللہ تعالیٰ انکواس عظیم دینی جذبہ اور اس کار خیر کے طیب فریضہ کو ادا کرنے کی جرات و ہمت عطا فرماویں اور جزائے خیر سے نوازیں۔ ۲۲۔۲۳ کروڑ اہل وطن مسلم امہ آپ کے اس اعلان کے بعد آپکی پشت پر کھڑی ہو چکی ہے۔
۲۔
اسلامی جمہوریہ ء پاکستان کا نام اوراسکا ملکی وجود بذات خود ایک عالمی اسلامی تحریک کا آغاز ہے۔جو اسلامی جمہوریت،اسلامی نظام سلیکشن،اسکے سلیکٹیڈ ممبران کے سپرد نظام مملکت کرنا، قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کے دستور حیات کو نافذ کر کے اسلامی تہذیب کو پروان چڑھانا ۔اسلامی جمہوریہ ء پاکستان سے مغربی جمہوریت کے باطل ،غاصب کفر کا مذہب کش مغربی جمہوریت کا طبقاتی،تفاوتی ،سودی، مخلوط، نظام حکومت اور مغربی مخلوط کلچر کا خاتمہ کرنا، انسانی عزت و حرمت کو الہامی کتاب کے مطابق بحال کرنا، پاکستان اسلامی دستور حیات کے الہامی نظام مملکت کے آئین ،نظریات ،تعلیمات،اخلاقیات کی ابتدا تھی اور آج بھی ہے۔ پاکستان نے دنیا ء عالم میں بنی نوع انسان کی اصلاح و فلاح کی الہامی روحانی دنیا کو سر سبز کرنا ،اخوت و محبت ،اعتدال و مساوات ،عدل و انصاف کی درسگاہ کا فریضہ ادا کرنا تھا اور کرنا ہے
۳۔
اسلامی جمہوریہ ء پاکستان میں اسلامی جمہوریت کے نظام مملکت کو رائج کرنے ،اسکو نافذ کرنے اسکوچلانے کیلئے ایک محلہ ،ایک دھوک،ایک یونین کونسل کی سطحُ پر اہل علاقہ کے ممبران کی سلیکشن کا چناؤ کیا جاتا ہے۔جہاں عوام ایک دوسرے کی دینی خوبیوں اور اس کے کردار و تشخص اور اہلیت سے آشنا ہوتے ہیں۔فرض کرو اس محلہ ،دھوک ،یونین کونسل کے ووٹر کی تعداد سات ہزار ہے۔یہ تمام ووٹر سلیکشن کیلئے بطور امیدوار کھڑے ہوتے ہیں۔اس میں نہ کوئی سیاسی جماعت،نہ کوئی سیاسی رہنما ،نہ کسی فرد کا قرآن حکیم کے آئین کے خلاف کوئی الگ منشور ہوتا ہے۔
۴۔
اسلامی جمہوریہ ء پاکستان کے ہرفرد کا یہ دینی فریضہ ہوتا ہے کہ وہ علاقہ میں سے ایسے افراد کی سلیکشن کریں جو دین کی روشنی میں سب سے زیادہ نیک ،سادہ و سلیس، قلیل ضروریات حیات کے مالک اورنبی کریم ﷺ کی زندگی کے قریب ترین خوبیوں کے وارث ہوں،امانت و دیانت میں یکتا،اخوت و محبت کاپیکر،اسوہ حسنہ ،حسن خلق ،ادب انسانیت ،خدمت انسانیت ،بنی نوع انسان کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش ہوں ۔ اعلیٰ اہلیت کی خوبی سے مالا مال ہو۔فرائض منصبی ادا کرنے کی صلا حیت رکھتا ہو۔ حسب ضرورت ایسے افراد کا چناؤ کرنا کوئی دشوار فریضہ نہیں ہوتا۔ اگر کسی غلط ممبر کا چناؤ کر بھی لیا جاتا ہے،تواسکو وہی یونین کونسل کے ممبران ثبوت کی بنا پرختم کرنے کے مجازہوتے ہیں۔حق حاکمیت اور حق احتساب انکے پاس ہوتا ہے۔
۵۔
اسلامی جمہوریہ ء پاکستان میں اسلامی جمہوریت کے نظام مملکت کو چلانے کیلئے نہ کوئی سیاسی جماعت ہوتی ہے،نہ کوئی سیاسی رہنما ہوتا ہے۔نہ کوئی سیاسی منشور ہوتا ہے۔نہ اسکے نظام سلیکشن میں کسی فرد کو اپنی خوبیاں ، خدمات اور اعلیٰ اہلیت کو مشتہر کرنے،ذرائع ابلاغ کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کے خلاف لب کشائی کرنے،نفرت و نفاق پھیلانے اور ملک لخت لخت کرنے کی ضرورت پڑتی اور نہ کوئی ایسا کر سکتا ہے۔نہ کوئی سلیکشن کیلئے کسی قسم کی درخواست نہ کسی فرد کی تصدیق اور نہ کوئی رقم بطور سیکورٹی سرکاری خزانہ میں جمع کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ ملت سیاسی جماعتوں، نہ انکے رہنماؤں، نہ انکے سیاسی منشوروں، نہ انکے دو تین سو سیاسی فرقوں میں تقسیم ہوتی اور نہ اقتدار کے حصول کی خانہ جنگی جاری رہتی ہے۔
۶۔
اسلامی جمہوریہ ء پاکستان میں اسلامی جمہوریت کے نظام مملکت اور اسکے نظام سلیکشن میں نہ ملت کی جمعیت سیاسی رہنماؤں ،انکے سیاسی جماعتوں کے سیاسی فرقوں اور نہ انکے سیاسی منشوروں میں تقسیم ہوتی ہے نہ ملکی وحدت کوچار صوبوں میں بکھیرا جا سکتاہے۔نہ سیاسی جماعتوں میں اہل وطن کو تقسیم کیاجاسکتا ہے۔نہ اقتدار کیلئے دھرنے دینے پڑتے ہیں۔ نہ انگریز کے پروردہ ملکی غدار ٹولہ کے صاحب ثروت افرادکو چاروں صوبوں کے حکومتی ایوان اورانکی اولادوں پر مشتمل انگریزی زبان کے ایچی سن نما انگلش میڈیم شاہی اخراجات والے تعلیمی اداروں کے انگریزی زبان کے سکالروں کو فوج شاہی ،افسر شاہی منصف شاہی،نوکر شاہی کے مراعات یافتہ شاہی طبقہ کے مغربی سکالروں کو حکومتی ادارے سپرد کئے جاتے ہیں۔ نہ ملکی وسائل اور خزائن فوجی سیاسی حکومتی ٹولہ اور انکے مراعات یافتہ شاہی طبقہ اور انکی باقیات کی ملکیت بنایا اور اہل وطن ۲۲۔۲۳ کروڑ عوام کو انکی ملکیت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔نہ فوجی سیاسی حکومتی ٹولہ اورنہ انکے مراعات یافتہ شاہی طبقہ کی طبقاتی،تفاوتی شاہی تنخواہوں،شاہی مراعات ،رشوت،کمیشن ،کرپشن سے ملکی وسائل ،خزائن،زر مبادلہ، آئی ایم ایف کے قرضے لوٹے جا سکتے ہیں۔نہ منی لانڈرنگ سے سوئس بنک بھرے جا سکتے ہیں۔نہ قتدار کے حصول کی خاطر کوئی مجرم ملک دو لخت کر سکتاہے۔
۷۔
اسلامی جمہوریہ ء پاکستان میں اسلامی جمہوریت کے نظام مملکت اور اسکے نظام سلیکشن کے سلیکٹیڈ ممبران نہ قرآن حکیم اور نہ ۱۹۷۳ کے اسلامی آئین،نظریات تعلیمات اخلاقیات ،اسوہ حسنہ اورحسن خلق میں رد و بدل کر سکتے ہیں،نہ اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کا پیمانہ بدل سکتے ہیں۔ نہ امانت و دیانت اورنہ ازلی ابدی قوانین کو سبو تاژ کر سکتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے آئین اور اسکی حاکمیت کو قائم کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔اسلامی دستور حیات ہی بنی نوع انسان کو انسانیت کی فلاح و بہبود کا راستہ دکھاتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں