681

نفاق و افتراق

سلام اور ڈھیروں دعائیں

دوستو سوچ رہا ہوں شاید اسی لئے شاعر پکار اٹھا تھا کہ “مُنیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے” کہ سفر شروع ہوتا نہیں کہ کھائیوں میں جا اترتا ہے۔ رہنماوں کی آنکھیں، اور شاید روح و خرد بھی طاقت کی چکا چوند سے اس طرح چندھیاتی ہیں کہ اُن کی تمام اکتسابی اور طبعی صلاحیتیں معدوم ہو جاتی ہیں، رہزن انھیں گھیر لیتے ہیں اور مملکتِ خداداد پر تو جس کا بھی بس چلا اُسی کے لئے ایک چراگاہِ دوام۔

افراتفری ہمارا نصب العین نہیں تھا
ہمیں تو مثال بننا تھا دنیا کے لیئے اور رہنمای فراہم کرنی تھی عالمِ اسلام کو
قران و سنت کو ہمارا اوڑھنا بچھونا ہونا تھا
خطبہِ وداع ہماری مشعلِ راہ اور آئینِ ریاستِ مدینہ ہمارا سفینہ، علم و حلم و رواداری ہماری پہچان اورصدق و صفا و امانت و دیانت کو ہمارا نشان ہونا تھا۔

لیکن ہوا کیا؟ جھوٹ، بد دیانتی، اقرباپروری، تعدی و تعمل، ظلم و کینہ پروری، قتلِ انصاف اور نفاق و افتراق نے ہمیں جکڑ لیا۔آلہِ کار ہم بنے، ہوس و ہوا نے ہمیں گھیرا، تکبر و ریا نے ہمیں دبوچا ۔ ۔ سنسنی، تخریب، ریاست کے خلاف زبان درازی، قوم کی شہہ رگ اداروں کے خلاف نفرت و دشنام ایوانوں میں اور خیابانوں پر، نہ درسگاہیں محفوظ نہ شاہراہیں ۔
مُوردِ الزام شیطان یا پھر سامنے والا انسان ۔ ۔ ۔ الامان الامان الامان۔

کشمیر جل رہا ہے اور یہاں ہم نے کچھ ایسا سماں باندھ دیا ہے کہ ذکرِ کشمیر خبروں کے بلیٹنز میں آخر میں چند حرفی جگہ پا رہا ہے۔ پرائم ٹائم ٹی وی سے تو مکمل غائب کیونک وہاں سیاسی مناظروں، کشمکشوں اور آلائشوں سے ہی فرصت نہیں۔ ہوے تم دوست جس کے ۔ ۔ ۔ ۔

گدھیں منڈلا رہیں ہیں۔بھیڑیئے ہاو ہاو کر رہے ہیں۔۔ بلایئں بلائیں لے رہیں اور یہاں پر بےسری بانسری بج رہی ہے اور جوتیوں میں دال بٹ رہی ہیں ۔

میں اپنی ایک ادنی (مگر عشروں پر محیط) ذاتی کاوش ِ اتحاد و سربلندی کو بھی بتِ انا اور اور دیویِ دھنا کی بھینٹ چڑھتے دیکھ رہا ہوں۔ لیکن “وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں” کے مصداق اپنی ڈگر پر قائم رہنا ہے۔ اللہ کریم استقامت بخشے۔

ایک مہربان نے خوبصورت انتخاب بھیجا جو بڑا بر محل لگا، سب کے لئے یعنی جو حکمران ہیں، جو اس وقت پریشان ہیں، وہ جو بیمار ہیں، وہ جو دھرنوں پہ تیار ہیں اور وہ گروہِ دست و گریباں جن کا ذکر میں نے سب سے آخر میں کیا ہے ۔ ۔ ۔ سب کے لئے :۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاو گے
خواب ہو جاو گے افسانوں میں ڈهل جاو گے

دے رہے ہیں تمہیں جو لوگ رفاقت کا فریب
ان کی تاریخ پڑهو گے تو دہل جاو گے

اپنی ہی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاو گے

خواب گاہوں سے نکلتے ہوے ڈرتے کیوں ہو
دهوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاو گے

صبح صادق مجھے مطلوب ہے کس سے مانگوں
تم تو بھولے ہو چراغوں سے بہل جاو گے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں