251

کورونا وائرس ۔.چند توجہ طلب نکات!

رضی الدین سید
چینلس اور اخبارات گزشتہ سوا سال سے ہر روز چیختی ہوئی خبریں سنا اور لگا رہے ہیں کہ دنیا بھر میں کورونا کیسز خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ پاکستان کے بارے میں تو بلکہ ان کی سرخیاں اس سےکہیں زیادہ ہی ہوتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس کے سبب خواص و عوام سب کے سب خوفزدہ بیٹھے ہیں . راقم نے ایک جائزہ، ایک سروے ،اپنے ہی علاقے کا لیا ۔ اپنی گلی میں، سامنے والی گلیوں میں، اور دور دراز کے محلوں میں ۔ لوگوں سے معلومات لیں ، پوچھ گچھ کی، اورمنسلکہ آبادی میں گیا، تو اندازہ ہوا کہ میرےاپنے علاقے میں ، جہاں کی کل آبادی چھ ہزار ہے، کورونا کےبس ایک یا دو کیسز ہی رپورٹ ہوئے تھے ۔ اسی طرح برابر والی نسبتا بڑی آبادی میں بھی راقم کو کم و بیش آٹھ افراد کے کورونا میں مبتلا ہونے کی خبر ملی جس میں صرف ایک خاتون کی وفات کی اطلاع تھی جس کے بارے میں اہل محلہ نے بتایا کہ مرحومہ شوگر کی بھی مریضہ تھیں ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ دونوں آبادیوں کے الگ الگ مجموعے سے یہ تناسب محض اعشاریہ سات فیصد بنتا ہے جو کسی وبائی یا وائرل ہولناکی کی خوف ناک شرح نہیں بنتی، جیسا کہ ابلاغ کے ذریعے پھیلا ئی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ شرح ڈرا وا دینے والی ہے؟۔ سویہی صورت حال عموما َہر کالونی اور علاقےکی ہے۔ اپنے دونوں علاقوں میں راقم نے نہیں پایا کہ وہاں کسی ایک گلی میں بھی سات آٹھ گھر اکھٹےکورونا والے پائے جاتے ہوں جس کے باعث لوگوں نے اس گلی میں آنا جانا ترک کردیا ہو۔ صفائی والے ، ٹھیلے لگانےوالے ،اور دیگر کاروباری افراد آج بھی وہاں مسلسل آجارہے ہیں۔اسی طرح ناظم آباد، شاہ فیصل ٹائون، گلستان جوہر، بنوری ٹائون، اور نارتھ کراچی وغیرہ میں بھی کسی کو کوئی ایک گلی ایسی نہیں ملے گی جہاں کورونا والے بہت سارے گھرپائے جاتے ہوں ۔ ہر جگہ عموما َ سکون ہی پایا جاتا ہے اور لوگ بغیر ماسک گھوم رہے ہیں ۔ اگر کسی ایک بستی کی آبادی ، یا پورے پاکستان کی کل آبادی کے لحاظ سے کورونا مریضوں کی شرح نکالی جائے تو فیصد محض قابل نظر اندازنکلے گی۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ وبائی مرض (طاعون، ٹی بی، انفلو ئنزا، یا چیچک) اسے کہتے ہیں جو مسلسل پھیلتا ہے ۔ ان میں سے بعض امراض اجتماعی و نہ رکنے والی موت بھی دیتے ہیں ،جیسا کہ برصغیر ہندو پاک اور انگلینڈ میں طاعون نے کبھی بھاری و اجتماعی اموات دی تھیں ۔ خوش قسمتی سے کووِڈ۹ا ،ایسا مرض ثابت نہیں ہواہے ۔ بھاری اموات کی اطلاعات ،ابلاغ کے ذریعے تو پھیلائی جارہی ہیں لیکن رہائشی آبادیوں میں فی الحقیقت ایسی بھاری و روزمرہ اموات کی صورتِ حال دیکھنے کو نہیں ملی ۔ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ کورونا کے برعکس ہر ہر گلی میں دل کے مریض ، کینسر کے مریض، ڈائلیسس کے مریض، اور شوگر کے مریض پچیس سے تیس افراد تک کی تعداد میں توضرور ملیں گےجس سے سادہ طریقے سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ امراض، کورونا وائرس (مرض) سے بھی زیادہ خطرناک ہیں کیو ں کہ ان کی بڑھی ہوئی شرح اموات ہم خود دیکھتے رہتے ہیں ۔ حتی کہ ہر بڑے شہر میں کئی کئی ہسپتال ہارٹ ، کینسر، اور شوگر وغیرہ کے مکمل بھرے ہوئے کام کررہے ہیں اور ان میں شرح اموات بھی بہت بلند ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ ان کی طرف کسی کی بھی توجہ نہیں ہے ۔ پھر جس طرح ہمارے ہاں اعلیٰ طبقات سے لے کر نیچے کے طبقوں تک، ماسک پہننے سے لوگ دور ہتے ،اور جس طرح مارکیٹیں، بینکوئیٹس ، بسیں ،اورعوامی مقامات کھچاکھچ بھرے ہوئے چل رہے ہیں ، اس کے تحت تو یہاں ہرہر فرد کورونا کاشکار ہوچکاہوتا اور ہر ہر ہسپتال بھرےہوئے ہوتے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا ہرگز بھی نہیں ہے۔اسی طرح گذشتہ دنوں پی ڈی ایم کے سیاسی اتحاد نے بھی ملک کے تمام اہم شہروں میں بڑے بڑے جلسے کئے اوردھرنے دیے جہاں سینکڑوں لوگوں کا کھچاکھچ ہجوم رہا۔ اصولاََ تو پروپیگنڈے کے لحاظ سے کورونا کو وہاں پوری قوت سے حملہ آور ہونا چاہئےتھا ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسی کوئی خبر کسی کو بھی نہیں ملی۔ اب کورونا کی تیسری لہر کے خطرناک ترین ہونے کے بارے میں بہت زورو شوراورہر ذریعے سے باور کروایاجارہاہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ عوام اس کا کوئی نوٹس ہی نہیں لے رہے ۔ پہلے ہی اس اطلاع کو کافی مدت گذر چکی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ عوام اس پروپیگنڈے کو زیادہ معتبر نہیں گردانتے۔ ہسپتالوں کےضمن میں بھی جو اعدادو شمار پیش کئے جارہے ہیں ، لوگوں کی نگاہ میں وہ بھی چنداں قابل اعتبار نہیں ہیں ۔ یوں بھی لگاتار ڈیڑھ دو سالوں تک ماسک لگاکے ملسل کام کرنا اورہر جاننے یا نہ جاننے والے سے دن رات تین تین فٹ کا فاصلہ رکھنا ، انسان کی فطرت سے بعید ہے ۔ حکومتی و ابلاغی مہم اس لئے بھی کامیاب نہیں ہوپارہی ۔

یوں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دیگر بڑے امراض کی مانند کورونا بھی ایک مرض ہی ہے جس میں وارثین کو لاشیں واپس نہ کرنے اور ماں بیٹی کو ایک دوسرے کی شکل نہ دیکھنے کی ضد کرلی جائے اور نہ اس کے لیے قید و جرمانہ کی سزا ئیں مقرر کی جائیں ۔ کیسے بھلا یاجاسکتا ہے کہ متحدہ بھارت میں طاعون جیسے خطرناک وبائی مرض میں بھی مسجدیں کھلی رہی تھیں اور مرحومین کو باقاعدہ غسل دے کر دفنایا جاتا تھا۔ حالانکہ احتیاط کا تقاضا تووہاں شدید تھا۔ چنانچہ ذمے داران پرلازم ہے کہ جو بیماریاں زیادہ جان لیوا ہیں ، سرخیاں انہی کے بارے میں بھری ہوں اور بھاگ دوڑ ا نہی کے سلسلے میں جاری ہو۔ لیکن معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے ۔ان امراض کے لوگ مرتے ہوں تو مرتے رہیں ، توجہ اسی کی جانب دی جائے گی جس کی کچھ شرح ہی نہیں بنتی اور جس کے بارے میں ہدایات عالمی ادارہ ء صحت دے رہا ہے۔ یہ تو گھوڑے کے آگے ،گاڑی کو جوتنے والی بات ہی ہوئی ۔ ’’ممکن ہے کہ قدیم دور تک دانشور اور ہسپتال مالکان اتنے چالاک نہیں ہوئے ہوں!‘‘
کسی دور میں ملیریا ، انفلوئنزا، اور ڈبل نمونیا بھی بہت جاں لیوا امراض سمجھے جاتے تھے۔ سکندر اعظم فاتح عالم ،اور اس کی افواج کو بھی ملیریا نے موت کی نیند سلایا تھا،اور میرے بچپن ۱۹۵۸،۵۷میں بھی انفلوئنزا کا بڑا زور تھا۔ اورخودمیں بھی اس کا نام سن کر کانپ جاتا تھا، مگر تمام بیماریوں کی دوائیوں کی فوری ایجادات ہوئیں اور بیماری پر قابو پالیا گیا ۔ چنانچہ اب یہ امراض خطرناک نہیں رہے ہیں ۔ یاد رہے کورونا، ڈبل نمونیا اور انفلوئنزا کی ترقی یافتہ شکل ہی کی مانند مرض ہے ۔ اس لئے کورونا کہہ کر عوام الناس کو دنیا بھر میں ڈرانا ضروری نہیں ٹھہرتا ۔ اسے اس پہلو سے بھی دیکھا جانا چاہئے کہ عرب دنیا کے علاوہ پوری مسلم دنیا میں مسجدیں الحمدللہ بھری ہوئی چل رہی ہیں ، اور روزانہ ہی بھری ہوئی چل رہی ہیں ۔ مگر پاکستان سمیت کسی ایک ملک سے بھی نمازیوں کے مرتے رہنے کی خبریں موصول نہیں ہورہیں ۔ اگر ایسا ہوتا تو خود مختار انتظامیہ خود ہی مسجدیں بند کرنے کا اعلان کردیتیں ۔ سعودیہ میں اگرچہ محدود پیمانے پر عمرہ کھول دیا گیا ہے مگر وہاں سے بھی کوئی اطلاع ایسی نہیں ہے کہ عمرہ زائرین میں سے ہر روز بیس بائیس افراد کورونا سے متاثر ہورہے ہوں؟۔ نہیں ،کیوں کہ اگرایسا ہوتا تو عمرے پر مزید پابندیاں فوری عائد کردی جاتیں۔
غور کرنے کے قابل یہ حقیقت بھی ہے کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ راقم ۱۹،۲۰ مارچ ۲۰۲۱کودادو سندھ سے آگے ،سردپہاڑی وتفریحی علاقے “گورکھ ہل” گیا تھا جوسیر کے لیے آئے ہوئےافراد سے مکمل بھرا ہوا تھا۔ واپسی پرہم دادو اور ایک دو گوٹھوں سے گزرے جہاں سڑک کے کنارے ہم نے ڈھابوں ہی سے ناشتہ بھی کیا اور کھانے بھی کھائے۔ گوٹھوں کی حفظانِ صحت کی جو حالت ہے ،و ہ ہم سب کو معلوم ہے۔ کھچاکھچ بھرے ہوئے اور غلاظتوں کے ڈھیر پرڈھیر! ۔ پھر دادوکےلئے ہم نےجواے سی کوچ کی تھی ، وہ بھی بھری ہوئی تھی۔ہم انہی کوچوں سے گئے بھی تھے اور آئے بھی تھے۔لیکن کراچی واپس پہنچ کر بھی ہم سب تاحال بخیرو عافیت رہے ۔ اللہ کے فضل وکرم سے کوئی ایک فردبھی کورونا سے متاثر نہیں ہوا۔ حالاں کہ ہم میں سے بعض کی عمریں پچاس اور ساٹھ سال سے تجاوز کررہی تھیں۔
حیرت انگیز امر یہ بھی ہے کہ کورونا کو بیکٹیریا نہیں بلکہ وائرس کہا گیا ہے۔ شاید اس لئے کہ نہ کوئی اسے دیکھ سکے اور نہ کوئی اس کی پڑتال کر سکے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس کی ویکسین کی تیاری میں آخر پورا ایک سال کیوں ضائع ہوا؟ کیا ا س میں بھی کوئ کاریگری دکھائی گئی ہے؟۔ نیز وائرس کا علاج آخرمحض ویکسین ہی کیوں گردانا گیا ہے؟ گولیاں اور شربت کیوں نہیں؟۔ میڈیکل سائنس تو غالبا آج ویکسین کو مسترد کرنے کی طرف جارہی ہے۔ لیکن پھر بھی ویکسینیشن ہی پر اصرار کیوں ہورہا ہے؟۔ جب کہ اس کے مضر اثرات کی خبریں بھی آنے لگی ہیں ؟۔ ان تمام حقائق کے پیش نظرہم آخراس کے پیچھے چھپی کسی سازش سے صرف نظر کیسےکرسکتے ہیں ؟۔ ممکن ہے کہ ہرگز بھی یہ ایک سازش نہ ہو۔ لیکن دشمنوں کی چالوں سے ہوشیار رہنا کوئ بری بات بھی نہیں ۔ اور گذارشات کو یکسر مسترد کردینا مناسب طریقہ بھی نہیں !۔ حرمین شریفین کو ایک ڈیڑھ سال تک مکمل بند رکھنا، دیگر عبادت گاہوں کو تالے لگا دینا، نمازیوں پر جرمانے کرنا، جیلوں میں ٹھونس دینا، اور دنیا بھر کی معیشت کو تقریبا ختم کرکے رکھ دینا، کیا اس کے پس پردہ کسی چونکا دینے والی سازش کی بو محسوس نہیں ہوتی؟ ۔اگر کسی کو کوئی شک ہو تو اسے تسخیر عالم کے یہودی، (صیہونی) منصوبوں کا مطالعہ کرنا چاہئے جو اس کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہوگا ۔ لاتعداد بیرونی کتب کو تو چھوڑئیے، راقم کی ان گذارشات کو سمجھنے کے لئے کوئی ، صیہونی بڑوں کی اپنی مرتب کردہ کتاب ” پروٹو کولس آف دی ایلڈرس آف زائنس” ہی کا مطالعہ کرلے ۔چھوٹے سے اس کتابچے میں انہوں نے ایک ایک صفحے پر کھل کے بتایا ہے کہ مستقبل میں وہ دنیا کے ساتھ کیا کچھ کرنے جارہے ہیں اور کس طرح مذاہب ِعالم، عباد ت گاہوں ، معاشیات، اخلاقیات، اور آبادی وغیرہ کوختم کرنے جارہے ہیں؟ ۔ ان کے فاسد مقاصد کی پوری تفصیل مذکورہ کتابچے میں موجود ہے۔ اسی کے ساتھ اگر کوئی ،فورڈ کار کے بانی ہنری فورڈ کی مختصر کتابThe International Jewیا ’’یہودی فتنہ گر‘‘(ترجمے) کو بھی پڑھ لے تو اس میں بھی اسے دنیا کو برباد کردینے کےیہودیوں کے تما م طریقے وضاحت سےمل جائیں گے۔ ہنری فورڈنے دراصل یہ کتابچہ لکھ کر اپنی (امریکی )قوم پر احسان کیا تھا۔

یہ بات، کہ یہ وائرس دنیا سے اب شاید کبھی مونہہ نہ موڑسکے گا، شاید درست ہی ہو ۔ لیکن اسے محض اس لحاظ سے دیکھنا چاہئے کہ ہارٹ اٹیک اور شوگر وغیرہ نے بھی دنیا کا کب پیچھا چھوڑا ہے؟ ۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہےکہ اب ہم خوف کھانے لگیں ،ایک دوسرے سے ڈرنے لگیں ، اور اپنی ہی اقتصادیات کو آگ لگاکے رکھ دیں ۔ نہیں ، بلکہ ان بیماریوں کی مانندیہ بھی بس ایک بیماری ہی ہے جو کہنا چاہئے کہ ’’ایجاد کردہ‘‘ (پلانٹڈ )ہے۔
ویکسینیشن کے بارے میں دنیا کے لوگوں میں جو شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، اسے تقویت اس حقیقت سے بھی ملتی ہے کہ مارچ ۲۰۲۱ کے وسط میں وزیر اعظم عمران خان کی سطح کی شخصیت نے کورونا کاٹیکہ لگوایا تھا ،اور اس کے محض چند دنوں بعد ہی وہ کورونا میں مبتلا ہوگئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یا تو وہ ویکسین جعلی تھی ، یا حکمِ آقا کے تحت وزیر اعظم کو بھی اس کامریض بننا پڑا۔دوئم ذرائع ابلاغ آخر صرف پاک و ہند ، یورپ ، امریکہ، اور عرب دنیا ہی کے اعدادو شمارکیوں جاری کررہے ہیں ؟ درمیان سے افریقہ، سری لنکا، انڈونیشیا، ملیشیا، اور بنگلہ دیش وغیرہ کی خبریں کیوں غائب کردی گئی ہیں؟ کیا وہاں کورونا داخل نہیں ہوسکا؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہسپتال جاکر مریض کیا واقعی کورونا سے مرتا ہے؟۔ جان سے جانے والے لوگ وہاں کیا کسی اور جاں لیوا بیماری کے ساتھ داخل نہیں ہوتے؟۔ پیچھے کیا کہانیاں ہیں ، کون حقیقت بتا سکتا ہے؟ اور جس قدر شور ڈاکٹر اور حکومت کررہے ہیں ، اورجس طرح عوام ان پابندیوں کی کھلے عام خلاف ورزیاں کررہے ہیں ،اس کے نتیجے میں کہاں بھلابھر بھر کے ایمبولینسیں ہسپتال جارہی ہیں اور کہاں لوگ ڈر ڈرکے گھر بیٹھ رہے اور کاروبار بندکررہے ہیں؟۔ وائرس کے سازشی ہونے کی آواز معذرت کہ صرف پاکستان ہی سے نہیں ، بلکہ امریکہ، آسٹریلیا و برطانیہ جیسے پڑھے لکھے ترقی یافتہ ممالک سے بھی مساوی طور پراٹھ رہی ہے۔ بلکہ کچھ زیادہ ہی شدت سے۔ کیون کہ اپنی حکومتوں کے خلاف تو وہ لوگ باقاعدہ مظاہرے کررہے اور منصوبہ بندی کے ساتھ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کررہے ہیں ۔ بعید نہیں کہ اس سازش کے خلاف طوفان وہیں سے اٹھے! ۔
عقلی ومنطقی اس سوال سے بھی کسی کو نہیں روکا جاسکتا کہ آخر اللہ تعالیٰ آج کی اس دنیا میں نعوذ بااللہ اچانک اس قدر ظالم کیسے ہوگیا کہ پوری انسانیت کو سسکا سسکا کر ،اور بھوکا رکھ رکھ کر دو سال تک زندہ ماررہا ہے؟ بلکہ اللہ تعالیٰ کا تواس کے برعکس کھلے عام اعلان ہے کہ دنیا کے لوگ یہاں چاہے جس قدر زندگی کے مزے لےلیں ، لیکن آخری و سخت بدلہ توہم اپنے پاس روز حشرہی میں لیں گے؟۔


RAZIUDDIN SYED
0331-2646109

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں