695

ملت پر اثر انداز ہونے والے طبقات اور ان کا کردار

امت کے چار طبقات ایسے ہیں جو تمامی افراد امت اور پوری ملت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اپنی بات، اپنے فلسفے، اپنے نظریات، اپنے عمل و تصور اور کردار کو پوری قوم سے منوا سکتے ہیں اور پوری قوم کو اس پر جمع کر سکتے ہیں ، پوری قوم سے وہ عمل کروا سکتے ہیں جس پر وہ خود عمل پیرا ہیں، پوری قوم کو اس راہ پر استوار کر سکتے ہیں جس کے وہ خود مسافر ہیں۔پوری قوم کو وہ یقین دلوا سکتے ہیں جس پر وہ خود یقین رکھتے ہیں۔ وہ چار طبقات کونسے ہیں ؟
1۔ علماء ، امام و خطیب حضرات اور ادبی حلقہ
2۔ پیر و مشائخ اور صوفیاء
3۔ حکمران و سیاست دان
4۔ امراء و مخیر حضرات

1۔ علماء ، امام و خطیب حضرات اور ادبی حلقہ

مگر بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ان چاروں طبقات کا کردار ایسا ہے جو امت کو مزید پستیوں کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ملت کے یہ چاروں طبقات غفلت، خود غرضی ، مفاد پرستی کی بہت گہری آغوش میں ہیں، حسد ، کینہ، تعصب ، نفرت و عداوت آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ کسی ایک طبقہ میں بھی بیداری امت، اصلاح امت کی فکر و سوچ نہیں پائی جاتی۔ آج اصلاح امت علماء کا موضوع نہیں، امت کی اخلاقیات اور کردار کی درستگی ان کا مشن نہیں، امت کی تربیت اور فلاح و سرفرازی سے ان کو غرض نہیں۔ امت کو گمراہی و ضلالت کے اندھیروں سے نکالنا ، امت کو تہذیب سیکھانا ، امت کو سختی سے اسلامی اصول و روایات اور صحابہ کرام کے کردار کا پابند کرنااور معاشرتی برائیوں کے سامنے ڈٹ جانا ان کی راہ شوق و منزل ہی نہیں۔ علماء نے امت کو فرقوں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے اور بات یہاں رکی نہیں ، امت کی مزید تقسیم در تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ امت واحد فرقوں میں بٹی، فرقے جماعتوں میں، جماعتیں تنظیموں میں، اور تنظیمیں بھی کئی کئی گروہوں میں بٹتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کی تحریریں، ان کی تقریریں، ان کے واعظ،ان کے جوش، ان کے ولولے ، ان کی تمام تر توانائیاں اختلافی امور و مسائل کو ہوا دینے پر صرف ہورہی ہیں نہ کہ امت کی بیداری، اور نہ ان میں محبت والفت و رواداری پیدا کرنے میں۔ ان کے مدرسوں، ان کی مساجد سے ایک دوسرے سے نفرت کی بو آتی ہے۔ انہوں نے مدرسوں اور مسجدوں کوتعصب، عداوت، نفرت، تنگ نظری، شر اور شدت پسندی کی اماجگاہ بنا دیا ہے ان میں ایک دوسرے سے نفرت کا درس ملتا ہے باہمی محبت و الفت اور بھائی چارہ کا نہیں۔ حقیقت میں ہمارے علماء ہی امت کو رسوائی ، ذلت و پستی اور تباہی و بربادی کے طرف لے جارہے ہیں۔

عشق و مستی کا جنازہ ہے تخیل ان کا
ان کے اندیشہ تاریخ میں قوموں کا مدار

چشم عالم سے چھپا تے ہیں مقامات بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ بدن کو بیدار

ہمارا ادبی حلقہ ہے تو وہ بھی بس دنیاداری ہی میں مگن ہے۔ یہ حلقہ قوم کو ادب اور تہذیب تو سیکھانا چاہتا ہے مگر وہ بھی دنیا داری سے، دین و مذہب سے نہیں۔اس حلقہ کی توجہ قوم کو ادب سیکھانے کیلئے من گھڑت قصے کہانیاں، جھوٹے افسانے، ناول و ڈائجسٹ لکھنے کی طرف ہے۔ ڈرامے لکھنا، اس پر سٹوری بنا اور اس میں ادب و تہذیب کے کردار واضح کرنا کہ قوم اس سے کوئی درس لے۔ ہمارے مضمون نویس اور کالم کار ہیں تو انہیں بھی سیاست اور کھیل و تماشہ پر لکھنے سے فرصت ہی نہیں کہ وہ بیداری امت، امت اصلاح کا سوچیں اور اتنے جاندار مضامین لکھیں کہ وہ قوم کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر سیدھا کر دے۔

2۔ پیر و مشائخ اور صوفیاء
دوسرا طبقہ امت کے رہبر، پیر و مشائخ اور خانقاہوں والے ہیں تو سو وہ مخدوم ہیں۔ (حقیقی رہبر و سادات اور پیران عظام سے معذرت کے ساتھ جو اپنی حقیقی ذمہ داری پوری طرح نبھا رہے ہیں اور ان کے ارادتمندوں کی مہار ان کے ہاتھوں میں ہے وہ انہیں اس پر فتن دورمیں کسی طرح بھی بہکنے نہیں دے رہے، خیر اتنا کنٹرول تو اس وقت کہیں نظر نہیں آرہا بہرحال وہ ہمارے سر کا تاج ہیں وہ گستاخی نہ سمجھیں اور اس پر غور کریں، میں یہاں جنرل بات کرنے لگا ہوں اجتماعی طور پر جو اس وقت ہو رہا ہے معاشرہ میں) مخدوم ہیں یعنی صرف ان کی خدمت کرنا جائز ہے، بس ان کی خدمت کرتے رہو اور دعائیں لیتے رہو۔اس خدمت نے انہیں اتنا تن آسان بنا دیا ہے کہ بس نرم و نازک بستر ہو، تکیہ لگا ہو،خادموں کی ایک جماعت موجود ہو خدمت گذاری کیلئے،یہ مسند پہ بیٹھے ہوں لوگ آ رہے ہوں ، ہاتھ چومتے ، نذرانہ دیتے جا رہے ہوں بس ان کی ڈیوٹی ختم ۔یہ امت کی راہنمائی ہو رہی ہے اور فیض بانٹا جا رہا ہے امت میں بے عملی کا کہ ہماری غلامی میں آ گئے ہو اب کوئی فکر نہیں تمہیں جنت کی وہ تو ہماری خاندانی وراثت ہے۔ انہیں امت کی بدخلقی، گمراہی، ضلالت، فسق و فجور نظر ہی نہیں آتے۔ انہیں امت کا زمانے میں پستی و رسوائی کا احساس ہی نہیں اور نہ ان میں امت کو تاریکیوں سے نکالنے کی فکر و سوچ۔ان کے عشق و مستی کے دعوے دیکھو تو عرش کو چھو رہے ہیں ایسے عشق کو خود رسول اللہ ﷺ تمہارے منہ پر دے ماریں گے حشر میں یہ کہہ کر کہ میرے عشق کے کھوکھلے دعوے لے کر آگئے میری امت کو گمراہی و ضلالت، فسق و فجور کے اندھیروں میں چھوڑ کر۔ تو نے دنیامیں رہ کر میری امت کیلئے کیا کیا؟ میری امت کیلئے کیا سوچا،میری امت کی اصلاح و کامرانی کیلئے کیا کارنامے سرانجام دئیے؟
کیا کوئی اللہ کریم سے عشق و محبت کا دعویٰ کرے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر ، تو کیا اللہ کریم اسے قبول فرما لیں گے؟ اس پر تو بڑی زور دار تقریریں آتی ہیں علماء و مشائخ کو۔ مگر کیا کوئی رسول اللہ ﷺ سے تو عشق و جانثاری کا دعویٰ کرے آپ ﷺ کی امت کو چھوڑ کر تو کیا رسول اللہ ﷺ اسے سینے سے لگا لیں گے؟ یہ ان کی بھول ہے رسول اللہ ﷺ کو امت پہلے ہے یہ بعد میں۔ جو رسول اللہ ﷺ کی امت کا نہیں سوچتا، جسے امت کا حال دیکھ کے رونا نہیں آتا، جسے امت کا درد نہیں وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا ان کے نزدیک خواہ کوئی پیر ہے یا مسجد کا ملاں یاحکمران و سیاستدان۔رسول اللہ ﷺ کو ہمیشہ امت کی فکر رہی، غاروں میں ، سجدوں میں، رات کی تاریکیوں میں، سفر و حضر میں، جنگ و جدل میں، غزوہ و جہاد میں، وہ ہر جگہ امت کیلئے روئے اور یہ امت کی فکر سے مستثنیٰ۔ انہیں عشق مصطفی ﷺ میں تو رونا آتا ہے پر امت کے حال پر نہیں۔ بد خلق، بے عمل قوم انہیں نذرانے ہی اتنے پیش کر رہی ہے، مقبروں، خانقاہوں،مزارات پر چڑھاؤے ہی اتنے چڑھا رہی ہے کہ ان کے سمیٹنے اور محفوظ کرنے اور کہاں تصرف کرنے سے ان کی توجہ ہی نہیں ہٹتی۔ مجبور ہیں بیچارے! نذرانے سمیٹنے، مال و زر اکٹھا کرنے سے ان کی توجہ ہٹے تو امت کی فکر کریں۔ انہیں مال و زر، عیش و عشرت، برتنے کو ہر طرح کی دنیاوی آشائش وافر مقدار میں مل رہی ہے تو انہیں کیا فکر امت کے اصلاح احوال کی؟ یہ نذرانے نہیں سود ہے پیرانِ حرم کا۔ دانائے راز، ترجمان حقیت حضرت اقبال ؒ نے ایسے نذرانے سود سے تعبیر کیے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں

قوم کو تو میسّر نہیں مٹّی کے دِیے بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

شہری ہو دیہاتی ہو مسلمان ہیں سادہ
مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن

نذرانہ نہیں، سُود ہے یہ پیرانِ حرم کا
ہر خرقِ سالوس کے اندر ہے مہاجن

میراث میں آئی ہے انھیں مسندِ ارشاد
زاغوں کے تصّرف میں عقابوں کے نشیمن

3۔ حکمران و سیاست دان

تیسرا طبقہ حکمران و سیاستدان ہیں تو خود غرض۔ انہیں بس دنیا اور کرسی سے غرض ہے جس کیلئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔ یہ سب دنیا چاہنے والے ہیں دین نہیں، یہ دنیا کیلئے لڑتے ہیں، ہوس اقتدار، ہوس زرومال کیلئے لڑتے ہیں دین کیلئے نہیں۔ یہ قرآن وسنت کے باغی ہیں اور لادین جمہوریت کے فدائی۔جھوٹ بولنا ان کی عادت، بدخلقی ان کا وطیرہ۔ دین سے انحراف پر مبنی نظام جمہوریت پر یہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں مگر دین کیلئے ان کی زبانیں فالج زدہ ہیں کہ کچھ بول ہی نہیں سکتیں۔ دین کا پرچار ان کا مشن نہیں۔ دین کی بالادستی اور دینی اصولوں کا رائج کرنا ان کا منشور نہیں۔ یہ خدا کو تو مانتے ہیں کہ موجود ہے ، اس کے رسول ﷺ پر بھی ایمان رکھتے ہیں مگر جب خدا کے دین اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے نفاذ کی بات آتی ہے تو یہ اس سے بیزار اور اس کے سب سے بڑے مخالف ہیں، یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں قرآن و سنت کا نفاذ ہو۔ ایسے کھوکھلے ایمان و یقین کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے کہ کوئی کہے یا اللہ میں تجھے تو مانتا ہوں پر تیرے دین کا عملی نفاذ نہیں چاہتا، تیرے اور تیرے رسول ﷺ کے سب احکامات کو تو مانتا ہوں کہ حق ہیں پر انہیں عملی طور پر اپنے اوپر اور ملک میں نافذ کرنے اور کروانے سے معذرت خواہ ہوں اور نہ اس کے لئے کوشش کر سکتا ہوں، نہ اس کے لئے لڑ سکتا ہوں نہ جان دے سکتا ہوں۔ ایسا ایمان و یقین تو ظاہری و کھلی منافقت سے بھی بد تر ہے۔ خدا کے دین سے انحراف پر مبنی کفر جمہوریت کیلئے ان کا سب کچھ حاضر اور اس پر قربان ہے، یہ چاہتے ہیں کہ دین رہے نہ رہے پر جمہوریت رہے اور یہ اس پر فدا ہو کر کفرِ جمہوریت کے شہید کہلاتے رہیں۔
یہ پہلے بھی دین کے نام پر اسلامیان بر صغیر سے غداری کر چکے ہیں۔ قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا؟ نظریہ پاکستان کی بنیاد کیا تھی کہ پاکستان میں قرآن و سنت کے قوانین کا نفاذ ہو گا، قرآن پاکستان کا آئین ہو گا۔ یہ حکمران و سیاستدان تو نظریہ پاکستان کے بھی غدار نکلے، قیام پاکستان کے مقصد سے غداری کی۔ قرآن و سنت کے ساتھ غداری کی، قیام پاکستان کے وقت جو لوگوں کا خون بہا انہوں نے اس خون سے بے وفائی کی، لوگوں نے اپنی جانیں ان کی حکمرانی قائم کرنے کیلئے تو نہیں دی تھیں انہوں نے قرآن و سنت کے نفاذ کے عظیم مقصد کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ اس وقت لوگوں نے اپنی جانیں پاکستان میں قرآن و سنت کے نظام کی خاطر قربان کی تھیں اور ہمارے محترم قائد محمد علی جناح کا وژن بھی یہی تھاکہ پاکستان میں قرآن و سنت کے قوانین کا نفاذ ہو گا۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے 15نومبر 1942ء کو آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
’’مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہو گا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔الحمد للہ! قرآن کریم ہماری رہنمائی کیلئے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔‘‘
یہ لادین جمہوری مداری قیام پاکستان کا مقصد ہی بھول گئے اور اپنی خود غرضی اور مفاد پرستی پر اتر آئے۔ آئین پاکستان قرآن کی بجائے اپنی غرض اور مفاد کو مدنظر رکھتے ترتیب دیا۔ ہمارے معاشرے میں بے راہ روی کی مکمل ذمہ داری خود پاکستان کے معماروں پر عائد ہوتی ہے۔ ان معماروں نے اسلام کے نام پر پاکستان تو حاصل کر لیا مگر اسلام کے اوامر و نواہی اور احکامات دینیہ پر عمل کرنے کا کوئی سامان نہ کیا۔ آج کے حکمران و سیاستدان بتائیں کتنی قرآن و سنت سے راہنمائی لی گئی ریاست اسلامیہ پاکستان کے قوانین ترتیب دیتے ہوئے؟ یہ سب دنیاوی تماشا کرنے والے مداری ہیں۔ ہر طرف تماشا بپا ہے معاشرہ میں کوئی مداری کہیں لوگوں کو جمع کر کے اپنے نعرے لگوا رہا ہے تو کوئی کہیں۔ کوئی نیا پاکستا ن بنا رہاہے تو کوئی لوٹنے کے نت نئے طریقہ ایجاد کر رہاہے ، امت کو نیا رنگ دے کر صاحب اخلاق بنانے ، تقویٰ و پرہیزگاری کی راہ پر ڈالنے اور دنیا میں عزت ووقار عطا کرنے کا کوئی نہیں سوچ رہا۔ امت کو دنیا میں کامرانی و سرفرازی دلانا کسی کا نعرہ نہیں۔ کہیں جئے بھٹو اور زر خواری کے نعرے ہیں تو کہیں شریف لٹیروں کے ، کہیں خان ہے تو کہیں فضول مولانا۔ اور ان کے سیاسی متوالے ان کے گرد بھنگڑے ڈالے ہیں سیاسی خاندانی قیدی و غلام۔ کیا تم ان کی خاندانی غلامی کیلئے پیدا کیے گئے ہو؟ آج یہ ہیں کل ان کی اولاد ہو گی تمہارے نعروں میں خواہ وہ عقل و فہم اورشعور سے خالی ہو اور دین سے بیزار۔ حقیقت میں ان کی مت ہی ماری گئی ہے ، ان کی عقلیں کام ہی نہیں کرتیں، بہرے، گونگے اندھے جانور۔
لَھُمْ قُلُوْبٌ لَا یَفْقَھُوْن بِھَا وَلَھُمْ اَعْیُنٌ لَا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَا یَسْمَعُوْن بِھَا اُوْلٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَo
’’ان کے پاس دل ہیں مگر ان سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے ، ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے ، ان کے پاس کان ہیں مگر ان سے سننے کاکام نہیں لیتے، یہ تو نرے جانور ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر، یہی وہ لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہیں۔ (الاعراف179:7)
خدا نے عقل دی سوچنے اور سمجھنے کو، ایک نہیں دو آنکھیں دیں دیکھنے اور پرکھنے کو، ایک نہیں دو کان دئیے سننے اور راہ کا تعین کرنے کو۔کیا خدا نے تمہیں ان کے ہر الٹے سیدھے کاموں پر تالیاں بجانے اور بھنگڑا ڈالنے کے لئے پیدا کیا ہے کہ سیاسی پیر جو مرضی کرتے پھیریں، خواہ جھوٹ بولیں، غیبت کریں، قوم کی دولت لوٹیں، اخلاقیات کی پرکھیاں اڑائیں،دین کو نظر انداز کریں تم نے اپنی آنکھیں اور کان بند کر کے ان کے نعرے ہی لگانے ہیں؟ ان کے روحانی سیاسی پیروں کے مجمع میں اللہ و رسول ﷺ کا نعرہ ہی نہیں لگتا، صرف ایک دوسرے پر طنز، غیبت، چغلیاں، بہتان، طعنہ و تشنیع اورقوم سے جھوٹے وعدے، جھوٹی امیدیں، جھوٹی امنگیں کبھی نہ پورے ہونے والی۔اور لوگ بھی اللہ و رسول ﷺ کو بھول کر ان کے ترانوں پر رشک و بھنگڑے ڈالنے میں مست ہوتے ہیں تو خدا کا غضب اور قہر نازل نہ ہو امت پر۔کیا ان کی تخلیق کا مقصد یہ تھا؟ کیا ان کی تخلیق کا مقصد لادین، گھٹیا صفت، خائن لوگوں کے نعرے لگاناہے اکٹھے ہو کر یا ا للہ اور اس کے رسول ﷺ کے دین کا پرچار کرنا؟

4۔ امراء و مخیر حضرات
ہمارا چوتھا طبقہ امراء ،جاگیرداروں اور دولت مندوں کا ہے سو وہ دنیا دار ہیں اور لادین حکمرانوں کے خوشامدی، بے دین خاندانی جمہوری نظام ، خاندانی آمریت کے سہولت کار۔ یہ صرف دنیا داری اور کاروبار کی ترقی چاہتے ہیں، انہیں ملت کی ترقی سے سروکار ہی نہیں۔دین کی ترقی کیلئے ان کی دولت پہ زہریلا سانپ بیٹھا ہے جو دین کے نام پر اٹھانے سے ان کو ڈس لے گا اور یہ دنیا سے بھی جائیں گے۔ عیش و عشرت اور حکمرانوں کی خوشامد پر جتنا اڑا ئیں کوئی پروا نہیں مگر دین پر ایک سو لگانا بھی کروڑ نظر آتاہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی جمہوری مداری کسی شہر میں آتا ہے تو شہر بھر کی گلیاں ، محلے، بازار اس کے پتلوں کے فلیکس و بینرز سے بھر دی جاتی ہیں اور شہر کا اس سے منسلک ہر صاحب ثروت اس کار خیر میں حصہ دار ہوتا ہے۔ کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ ایک لادین جمہوری مداری کو خوش کرنے کیلئے کتنا فضول خرچ ہو رہا ہے؟ اگر یہ سارا خرچ جمع کیا جائے جس کی مدت ہی دو چار روز ہے ، اس سے سال بھر کیلئے پورے شہر کے غربا کو لباس مہیا کیا جا سکتا ہے مگر وہ انہیں گوارا نہیں۔ شہر بھر کے غربا کو خوش دیکھنے سے زیادہ ان کو ایک جمہوری مداری کی خوشی عزیز ہے۔
امت کے دولت مند عرب ہیں سو ان کی سوچ و فکر بس یہاں تک رہ گئی ہے۔ انا ابغی امارہ جدید، سیارہ جدید، حرمہ احسن و جدید۔یعنی نت نئی امارت ہو، نت نئی گاڑی ہو، نت نئی اورحسین و جمیل عورت ہو۔ یہ وہ عرب نہیں رہے جو خالی ہاتھ اونٹوں کی ننگی پشتوں پر بیٹھ کر جہاد کے ترانے پڑھا کرتے تھے اور ملت کے کسی ایک مظلوم کی پکار پر ظالم کی اینٹ سے اینٹ سے بجا دیا کرتے تھے۔ آج ان کے پاس سب کچھ ہے مگر ان کے ترانے بدل گئے ہیں۔ان کی سوچ، ان کے جذبے زر کے غلام بن گئے ہیں، دولت ان کا دین بن گیا ہے۔ آج عرب دولت کے پجاری ہیں دین کے نہیں بشمول ہمارے سب عجموں کے۔ آج سب کا دین دولت ہے ، آج سب ایک دوسرے سے بڑھ کر دولت سمیٹنے اور جائیدادیں بڑھانے کے چکر میں ہیں، دین اور اس کے فروغ کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں، اور خدا و رسول ﷺ سے بے یقینی کی سی کیفیت پورے عالم میں۔ آج ملت پر چار سو بے یقینی کی کیفیت طاری ہے کسی میں خدا کی مدد پر یقین اور کامل بھروسہ نظر نہیں آتا۔میں یہاں بات زیادہ لمبی نہیں حکیم الامت حضرت اقبالؒ کے ایک مصرعہ میں ملت کو پیغام دینا چاہوں گا کہ

سن اے تہذیب حاضر کے غلام
غلامی سے بد تر ہے بے یقینی

یہی وہ چار طبقات تھے علماء، پیر و مشائخ، اور حکمران و سیاستدان اور ملت کا مخیر طبقہ، جو معاشرہ پر اثرانداز ہو سکتے تھے اور امت کی ڈوبتی نیہا کنارے لگا سکتے تھے سو چاروں غفلت اور بے یقینی کی تاریکیوں میں ڈوبے بہت گہری نیند سو رہے ہیں۔اگر انہیں کچھ یقین ہوتا، ان کا ضمیر اگر زندہ ہوتا، اگر انہیں کوئی احساس اور فکر ہوتی رسول اللہ ﷺ کی امت کی تو کچھ تو ہوتا نظر آتا دنیا میں دین و ملت کی سر بلندی و سرفرازی کا، عزت و وقار کی بحالی کا، دنیا میں عزت سے سر اٹھا کر جینے کا ۔کوئی رہروِ منزل ہی نہیں رہا۔ ہم کمزور لوگ دین کا درد لے کر جائیں تو کہاں جائیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں