375

تحریکِ مساواتِ مرد و زن ۔نکات وار تحقیقی جائزہ

تحریکِ مساوات مرد و زن جو آج دنیا کی سب سے بڑی عفریت ثابت ہورہی ہے،اس کا آغاز آج سے تقریباً دوسو سال پہلے یورپ میں ہوا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر منفی تحریک کا آغاز سدا سے یورپ ہی میں ہو تا رہا ہے کیونکہ مذہب ان کے ہاں ہمیشہ ہی نا قابلِ توجہ گردانا جاتا رہا ہے۔ اگر آپ ان کی اس تحریک کا مرحلہ وار مطالعہ کریں تو پتہ لگے گا کہ تحریکِ مساوات کے علم برداروں کی جانب سے خواتین کے حق میں اٹھایا جانے والا ہر اگلا قدم، ان کی قوم ،ان کے معاشرے، مذہب ،اور خود ان کی خواتین کے لئے اٹھا ئے گئے ہر پچھلے قدم سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا تھا۔ بے راہ روی تحریک کے سرخیل حضرات اپنی دانست میں تو یہی سمجھتے رہے کہ وہ کامیابیوں سے دوچار ہورہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ خود اپنے آپ کو بھی اور معصوم خواتین کو بھی بدترین زوال سے دوچار کر رہے تھے۔ قصہ اگرچہ بہت طولانی ہے لیکن تفہیم کی خاطر ہم ذیل میں ان کے مرحلہ وار اقدامات کونکا ت کی شکل میں آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔
٭1۔حقوقِ نسواں کی تحریک کے لئے بنیادی کردار دراصل اس دور کی برپا شدہ دو عالمی جنگوں نے ادا کیا تھا۔ محاذ پر جانے کیلئے محلے محلے ” رنگروٹ مراکز “ کھلے ہوئے تھے کیونکہ میدان میں افرادی قوت کی شدید ترین ضرورت پائی جاتی تھی۔ لیکن جو مرد بھی بھرتی ہو کر محاذ پر جاتے تھے ، بہت کم ہی ایسے تھے جو زندہ بچ کر واپس آتے تھے۔ اور جو آتے بھی تھے تو بڑی تعداد اپاہج اور معذور ہوکرآ تی تھی۔ ہر گھرکے ایک دو مرد ضرور ان جنگوں میں کام آگئے یا ناکارہ ہوگئے تھے۔چنانچہ تقریباً ہر گھر میں ماتم بپا تھا اور ہرگلی میںآہ و بکا جاری تھی۔ ایک دو ضعیف مردوں کے علاوہ گھروںمیں اب صرف تین چار خواتین اور چند چھوٹے بچے ہی باقی رہ گئے تھے۔ سب سے بڑا سوال ان زندہ رہ جانے والوں کے نزدیک ان کی معاشی ضروریات پوری کرنے کا تھا۔ آمدنی اچانک جب صفر پر پہنچ جائے تو اتنا بڑا گھر کیسے او ر کیونکر چلے؟۔ واضح رہے کہ اس دور میں خاندانی منصوبہ بندی جیسے عجیب و غریب لفظ سے پورا یورپ قطعی نا آشنا تھا۔ کنبے تب بڑے بڑے ہی ہواکرتے تھے۔
٭2۔ معاش کے بعدعورتوں کے سامنے ایک حقیقی سوال یہ بھی آن کھڑا ہوا کہ ان کے جوجسمانی تقاضے ہیں انہیں اب کون پورے کرے گا؟۔ کمروں میں بیویاں تو موجود تھیں لیکن جیون ساتھی موجود نہ تھے۔ جذبات تو آخر جذبات ہیں۔ اور جوسب ہی کے اندر توانا ہوتے ہیں ۔ مرد ہوں یا عورت! ۔چنانچہ اس خلاء نے بھی ان کے اند رایک قدم آگے بڑھانے کی انجانی اکساہٹ پیدا کی۔
٭3۔ سوئے اتفاق ، یا حسنِ اتفاق، انہی دنوں یورپ میں صنعتی احیاء نے جنم لینا شروع کر دیا تھا۔ کارخانوں میں کام کرنے والے کثیر افراد کی ضرورت ایک ساتھ پائی جاتی تھی۔ لمِلوں میں بڑی بڑی مشینیں نصب تھیں جوخود کو رواں دواں رکھنے کی خاطر افرادِ کار کی طلب رکھتی تھیں۔ چنانچہ جنگی بھرتی کے مراکز کی طرز پر صنعت کاروں نے ان مشینوں کے لئے بھی رنگروٹ بھرتی‘ مراکز کھول دئیے اور آواز لگائی کہ ”جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں۔
٭4۔ صدمو ں اور لا وارثئیت کی ماری عورتوں کے لئے یہ گویا ایک قدرتی انعام تھا۔ پہلے تو روایتی شر م و حیا نے انہیں کھینچے اور باندھے رکھا۔ لیکن آخر کبتک؟۔ پیٹ تو حیلے بہانے نہیں سنتا، انگریزی محاورہ کہتا ہے کہ Hungry stomach has no ears ۔ چنانچہ اپنے رزق کے حصول کی خاطروہ آخرکار بیتابانہ باہر نکلیں۔ اس کے بعد تو پھر وہی اصول لاگو ہوگیا کہ’ گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہی عورت پر مصائب کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ شیطان کا یہ عمل مستحکم ہے کہ وہ ہر عورت کے ساتھ چلتا ہے تاکہ اسے بھی بہکائے اور سامنے آنے والے مرد کو بھی ہنکا کے رکھے۔
٭5۔عورت کو جب ہر ماہ لگی بندھی آمدنی ملنے لگی تو سکون و اطمینان کے جذبات کے ساتھ ساتھ اندرونی طور پر اس پر ایک گونہ خود اعتمادی کا احساس بھی طاری ہوا ۔ دوسری طرف اسکے اندراپنے” کچھ ہونے“ کی قوت کا خیال بھی اجاگر ہوا ۔پہلے اگر وہ کچھ نہیں تھی تو اب وہ یکا یک بہت کچھ بن گئی تھی۔ یوں ایک طرح کا بلاوجہ کا زعم بھی اس میں ابھرنا شروع ہوگےا۔
٭6۔ حاصل شدہ رقم سے ایک طرف اس نے اپنے گھر کو چلانا شروع کیا اور دوسری طرف خود کو بنانا سنوارنا اور نکھارنا بھی شروع کیا۔ باہر کی دنیا تو یوں بھی ہر ایک فرد سے بننے ،سنورنے اور سجنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اورمعاملہ جب عورت کا ہو تو بات اس سے بھی کہیں آگے جا کر ٹھہرتی ہے۔ ہاتھ میں پیسے آنے لگیں (خصوصاً وہ جو اس کی اپنی ذاتی آمدنی ہوں)، تو سجنے ، سنورنے اور بننے کی اس کی خواہش کچھ اور ہی سوِا ہو جاتی ہے ۔عورت کی فطرت کا یہ ایک لازمی وصف ہے۔
یوں ایک سادہ ، معصوم ، اور شرم و حیا کا پیکرِ وجود، غیر محسوس طور پر چمکتی ،جھلملاتی، اور پرکشش صنفی دعوت کے روپ میں ڈھلنے لگا۔ باہر کی دنیا ا ب اسے بہت بھانے لگی، اپنا آپ اسے اب بہت سہانا لگنے لگا!۔
٭7۔ مشینوں اور دفتروں میں مرد کارکنوں کے ساتھ آٹھ آٹھ، دس دس گھنٹوں تک ایک ساتھ کام کرتے ہوئے دونوں کے درمیان شیطان نے از خود داخلہ بنا لیا ، اس شعر کی مانند جس میں کہا گیا ہے کہ
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی!
لوگوں نے اس کے صحن میں رستے بنالئے
کہیں مرد اور عورت کا ہاتھ آُپس میں ٹکرا گیا ، کہیں جسم سے جسم باہمً مس ہو گئے، کہیں نگاہیں چپکے چپکے ایک دوسرے کے سراپے کا جائزہ لینے لگیں ، اور کہیں تخلیئے میں کھڑے کھڑے دو چار جملے ایک دوسرے کے ساتھ ادا ہو گئے۔ صبح وشام کے مصافحے تو بہرحال ان سب کے درمیان ایک طے شدہ بات تھی۔ جھجھک اور شرم اب آ ہستہ آ ہستہ دونوں سے، مردوں سے عموماً اور عورتوں سے خصوصاً، رخصت ہونے لگے
٭8۔ میز پر سامنے ، یا مشین کے پاس، جوان و حسین صنفِ نازک موجود ہو، اور مرد اسکی تعریفیں نہ کرے,؟۔ مرد کی ہمدردانہ نگاہ اور حوصلہ آور جملوں سے پھرعورت کے دل میں بھی یہ خیال جا گزیں ہونے لگا کہ فلاں فلاں مرد دوسرے مرد ساتھیوں سے اس پرزیادہ مہربان ہے۔ اور خلوص بھی اس کے اندر دوسروں سے زیادہ ہی جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ یوں خدا کے بیٹے ”مسیح“ کی جگہ محبت کے دیوتا ” کیوپڈ “ نے جگہ بنا لی اور آرام سے آ کر دلوں کے اندربیٹھ گیا۔ محبت کی آگ تیز ہونے لگی ۔ کبھی لڑکا اور لڑکی باہر گھومنے لگے اور کبھی ایک دوسرے کے گھروں میں بے تکلفانہ آ نے جانے لگے۔
٭9۔ صنعتی مالکان کو اندازہ ہوا کہ ملازمت کی ضرورت کے باعث صنفِ نازک کی شکل میں انہیں ایک اچھا شکار ہاتھ آگیا ہے پتہ تھا کہ لڑکیاں معاشی طور پر مجبور ہیں اور وہ چاہیں تو انہیں مزید مجبور بھی کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ان کے جبری جسمانی استحصال کے سلسلے کا بھی جاری ہو گیا۔ دوسری طرف بعض جری مگر نادان لڑکیوں نے مالکان کی زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے اور ان سے ملازمت کے بیش از بیش فوائد سمیٹنے کی خاطر، خود بھی اپنے آپ کوان کی جانب زیادہ راغب کرنا شروع کردیا۔ صورتِ حال پھر یہ بن گئی کہ صنعتی مالکان کی جانب سے ان کی جانب یہ خاموش پیغام مسلسل ارسال کیا جارہا تھا کہ یا تو ہمارے راستے پرچلو یا پھر ملازمت سے دستبردار ہوجاﺅ۔ خاتون سوچنے لگی کہ وہ ملازمت چھوڑے تو کیسے چھوڑے؟،اور چھوڑدے تو کہاں جائے ؟۔ کیونکہ دوسرے کارخانے کا مالک بھی تو بالکل اسی کے بھائی جیسا ثابت ہوگا۔
٭10۔ادھر مفاد پرستوں نے عورت کے حسن ، اس کی اداﺅں ، اور اسکی قیمت کی بناءپر اسے مزید پھانسنے کی کوشش کی اور تعمیری کاموں سے ہٹا کر اسے تفریحی مشغلوں میں الجھا دیا۔ نعرہ لگایا گیا کہ عوام کو پُر مشقت ملازمت کے ساتھ ’ ذہنی سکون‘ بھی فراہم کرنا لازم ہے ۔ چنانچہ اس کی خاطر انہوں نے شہروں میں جگہ جگہ نائٹ کلبس اور سنیما گھر کھولنے شروع کئے جن میں نوجوان عورتوں کو عریاں اداکاری، نیم عریاں رقص ، اور شہوت بھرے گیتوں کی ادائیگی میں مصروف کردیا۔ عورت کے لئے یہ ایک بہت پر کشش مصروفیت ثابت ہوئی کیونکہ اس سے نہ صرف یہ کہ اسے بھاری رقم مل رہی تھی بلکہ چرچے بھی اس کے دور دور تک پھیل رہے تھے۔ پیشہ تھاہی ایسا کہ اس میں اسے اپنے کپڑوں کو مختصر سے مختصر کرنا اور میک اپ زیادہ سے زیادہ کرکے حسین ترین نظر آنا تھا ۔ اگروہ یہ اطوار اختیار نہ کرتیں تو مارکیٹ ویلیو ان کی صفر ہو تی۔ اس کے بدلے کوئی اور دوشیزہ جگہ بنا لیتی!
٭11۔ اس مصروفیت نے عورتوں کو گویا پھر ان راستوں پرڈال دیا جہاںحیاء و عصمت ان کے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں رہی۔ ذرائع ابلاغ میں زیادہ سے زیادہ داخل رہے جانے اور دولت کے ڈھیر پر ڈھیر جمع کرنے کی خاطر ان کے پاس قدرتی راستہ بچا ہی یہ تھا کہ وہ ’آزاد سے آزاد تر‘ ہو تی چلی جائیں اورشرم و حیا کی زیادہ چنتا نہ کریں۔ چنانچہ ان میں سے ایک بڑی تعداد نے اس مقصد کے لئے از خود ’ کالے دھندوں‘ کی راہ اپنائی جن کا سب سے زیادہ فروغ یہودی قوم نے دیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر قسم کے کالے اور سیاہ دھندوں کا کاروبار ان کے مزاج کو ہمیشہ سے راس آتا رہا ہے ۔ امریکہ میں انہوں نے ’ ہالی ووڈ ‘ کے نام سے پہلا فلمی اسٹوڈیو کیا کھولا کہ اس کے بعد تو پھر جیسے فضا میں ایک دوڑ سی لگ گئی۔ نگار خانوں کی چُندھیا دینے والی چکا چوند کو دیکھ کر وہ معصوم سی کم عمر لڑکی جو پہلے کبھی گھروں ہی میں رہنے کو ترجیح دیتی تھی ،حیا سے جھجکی سی رہتی تھی، کچھ ذاتی خواہش اور کچھ ترغیب و ترہیب کے باعث فلمی دنیا کی رنگینیوں میں اس طرح ڈوب گئی کہ نہ صرف اسے اپنے نفع نقصان کا کچھ ہوش نہ رہا بلکہ دیرینہ مذہب ، اخلاق، اور والدین ، سب کو اس نے ایک ساتھ الوداع کہہ دیا۔
٭12۔ کارخانے اور صنعتی ادارے پھلنے پھولنے لگے تو مصنوعات کے فروغ کے لئے مالکان کو اشتہارات کی ضرورت محسوس ہوئی ۔عورت تو اس کام کے لئے پھرسب سے زیادہ مناسب ”شے “ سمجھی گئی ۔ جو چیزکسی وجہ سے نہ بک سکے ، وہ عورت کے حسن کے باعث تو ضرور ہی کوئی قدرو قیمت بنا لے گی۔ چنانچہ انہوں نے عورت کا استعمال اس طرح بھی شروع کردیا ۔ یوں عورت ایک نئی راہ ۔ ماڈل گرل کے کاروبار۔۔ پر بھی چل پڑی۔ مردوں کے مختلف عیارانہ اور ”واعظانہ“ پھندوں کے باعث وہ جب اس دلدل میں مسلسل پھنستی چلی گئی تو دام لگانے والوں نے ادھیڑ اور بوڑھی عورتوں کی جگہ نوجوان و پر کشش لڑکیوں کو مقام دینا شروع کردیا۔ ( سیکریٹری کی سیٹ کیلئے آج بھی اشتہاروں میں صاف مطالبہ کیا جاتا ہے کہ صرف وہی خواتین درخواست دیں جو ”نوجوان“ ہوں او ر”پر کشش “ ہوں) ۔
٭13۔ ماڈل گرلز جس قدر بے باک اور اچھے نقش و نگارکی حامل ہوتیں ، اسی قدر وہ زیادہ معاوضہ پاتیں۔ لیکن کام کے اوقات میں وہ بس محض آجرکی غلام ہی رہتیں۔ آجر ان سے جس طرح کا چاہتا کام لیتا۔ لٹا تا، جھلاتا، تیراتا، درختوں پر لٹکواتا، بارشوں میں نہلواتا، اور جیسے چاہتا جملے ادا کرواتا وغیرہ۔ یہ اوقات بس صرف آجر کے تھے اور ماڈل گرل اس کی ایک کٹھ پتلی تھی۔
٭14۔ پھرنعرہ یہ بھی عطا کیا گیا کہ جسمانی لطف کا حصو ل عورت کا فطری حق ہے جس مقصد کے لئے وہ کسی کے ساتھ بھی دوستی کر سکتی اور ’ ڈیٹ ‘ لے سکتی ہے۔ عورت کو یہ بھی جتایا گیا کہ اُدھر مرد کا بھی حق ہے کہ وہ کسی عورت کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرے۔ اس لئے’‘ کسی کو بھی کسی کے ساتھ“ انکا ر نہیں کرنا چاہئے۔ ”ہر مرد ہر عورت کے لئے ،اور ہر مرد ہر عورت کے لئے“۔ باور کرایا گیا کہ اخلاق، تہذیب ، اور مذہب، سب کچھ ڈھکوسلا ہیں اور عورت کوقید رکھنے کا محض ایک’ مولویانہ ‘ و ’ پادریانہ‘ بہانہ ہیں!۔
٭15۔ عورت کی مصروفیت جب ہر میدان میں بڑھتی چلی گئی تو اسکے سامنے سوال اب بال بچوں کے پالنے اور پرورش کرنے کا آیا۔ بچوں کی پرورش کے لئے تو خاصے وقت ، محنت ،اورایثار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لیکن ملازمت اور دیگر مصروفیات کے باعث عورت کے پاس وقت کہاں تھا؟۔ شام کو ِنگار خانوں اور ملازمتوں سے واپسی کے بعد وہ تھک کے چور چور اور چڑچڑی ہوجاتی۔ ایک طرف گھر کے بقایا کام اور دوسری طرف اس کے بال بچے!۔ سوچنے لگی کہ یہ بھی کوئی آزادی ہے کہ گھر واپسی کے بعد دوسری ’ملازمتیں‘ بھی اس کے انتظار میں رہیں!۔ اصلی ملازمت تووہ چھوڑنا نہیںچاہتی تھی۔ کیونکہ بہت سارے مسائل کا حل وہی ملازمت تھی۔ چنانچہ اب ملازمت کی جگہ اس نے خود بچوں ہی سے جان چھڑانے کی سوچ اپنائی۔ پہلے تو اس سلسلے میں اسکے لئے ’بے بی ڈے کئیر مراکز‘ کھولے گئے ۔ لیکن مسائل کا مکمل حل تو یہ بھی ہرگز نہ تھا۔ چنانچہ اب درمیان میں ایک یہودی دانشور ’مالتھس‘ مدد کو آیا۔ مستقبل میں آبادی کے زیادہ، اور خوراک کے کم ہو جانے کا ’ہوا ‘پیش کرکے اس نے آبادی کوکم کرنے کی ایک دوسری مضبوط عالمی مہم چلائی ۔ زور دیا’ کہ انسانی پیداوار‘ کم کرنے اورکنبے مختصر کرنے کی ضرورت لازمی ہے ‘۔ مقصد اس ساری عیارانہ مہم کا یہ تھا کہ مرد و عورت دونوں، اپنی اپنی ذہنی، جسمانی اور مالی عیاشی میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ کریں ۔ مالتھس نے دنیا بھر کویہ مضبوط و خوب صورت نعرہ دے کر کہ ”بچے کو قربان کردو ۔ عیاشی کو قربان نہ کرو“،گویا ایک احسان سے نواز دیا ۔
موجودہ آزاد انہ اور ملازمتانہ صورتِ حال میں ہر سال نئے بچے کی آمد سے عورت بہرحال دل برداشتہ بھی ہوتی جارہی تھی۔ ’ آبادی گھٹاﺅ اور کنبہ مختصر کرو‘ کے اس دلفریب نعرے نے اس کے دل کو تو جیسے موہ لیا اوروہ اولا د کو تج دینے جیسے اقدام پر خوشی خوشی تیار ہوگئی۔ اولاد جو کسی شادی شدہ عورت کے لئے سدا سے سرمستی و خود اعتمادی کا ذریعہ بنتی رہی ہے، اُس دور کی جدید عورت کو وہی سراسر بوجھ لگنے لگی۔
٭16۔ ناجائز تعلقات کے نتیجے میں جنم لےنے والی متوقع اولاد کے خطرے سے بچے رہنے کی خاطر اب ضرورت لاحق ہوئی کہ اس کے لئے مانع ِ حمل ادویات وآلات بھی سامنے لائے جائیں تاکہ دو طرفہ عیاشیوں میں کسی قسم کی بھی جھجھک اور رکاوٹ باقی نہ رہے ۔”ہرمعاملہ کامل بے فکری سے!“۔ مفکرین کے مطابق مرد و عورت میں سے کسی کو بھی ، عورت کو توخصوصاً،ا ولاد کا خو ف ہر گزنہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح تحدید اولاد کے بھی سامان مکمل ہوگئے۔ اولاد کا خوف ذہنوں سے نکل گیا تو شعوری طور پر خواتین کو احساس ہو ا کہ اب جاکر کہیں ان کی آزادی مکمل ہوئی ہے۔
٭17۔ عورت چونکہ اب زیادہ ہوشیا ر اور سمجھ دار ہوتی جارہی تھی ،نیز دانشور اور ادیب اس کی پیٹھ ٹھونکنے کو ہر گھڑی پیچھے کھڑے بھی رہا کرتے تھے، اس لئے دونوں طرف سے اب یہ نیا نعرہ لگایا گیا کہ حکومتی و سیاسی ایوانوں کو بھی عورتوں سے پُر ہونا چاہئے اور وہاں ان کا کا حصہ بھی مردوں کی مانند ہی لگایا جانا چاہئے ۔’سیاست صرف مرد کریں اور حکومت بھی وہی چلائیں، یہ کوئی انصاف نہ ہوا؟۔” ہم خواتین عقل میں ان سے کوئی کم تھوڑی ہیں! ‘۔ مطالبہ کرتے اور تحریک چلاتے چلاتے حکومتوں کو بھی بالآخران کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ یوں وہ دفتروں ، کارخانوں، تعلیمی اداروں، نائٹ کلبوں، فلمی میدانوں ،اور کھیل کود کے میدانوں سے ہوتی ہوئی سیاست کے کارزاروں میں بھی داخل ہوگئیں۔
٭ 18۔ اپنی آزادی کے لئے مغربی خواتین نے طویل جدوجہد کی تھی، بے حد و حساب صعوبتیں بر داشت کی تھیں ، مظاہرے منظم کئے تھے، قیدو بند کی سزائیں بھگتی تھیں، سنگ باریاں کی تھیں،اور کلیساﺅں اورحکمرانوں کی مشترکہ نفرتوں کو سہا تھا۔ لیکن ہمت نہیں ہاری تھی۔ کیونکہ ان کے پیچھے یہودی دانشو ر وں، ادیبوں نیز شاعروں کی اکساہٹ اورحوصلہ افزائی شامل تھی۔ چنانچہ مقصد کے حصول کے ہرہر مرحلے کے بعد وہ ”مزید سے مزید “کا نعرہ لگاتی چلی گئیں۔
آخرکار ڈیڑھ دو سو سالوں کی مطلوبہ، بلکہ اس سے بھی زاید آزادی کے حصول کے لطف کے بعد پھر جا کر انہیں کہیں خیال آیا کہ اب ذرا ایک جائزہ انہیں اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ لے لینا چاہئے۔ چنانچہ اس کے بعد ہی جا کر انہیں کہیں محسوس ہوا کہ بظاہر تو وہ جنگ جیت چکی ہیں۔ لیکن جیتی ہوئی اس جنگ میں وہ دراصل ہاری زیادہ ہیں۔ ذمے داریاں ان پر دوہری آن پڑی ہیں، گھر ان کےبرباد ہو گئے ہیں، اپنا سچا خیر خواہ بھی کوئی نہیں رہاہے، مادرانہ گودیں بھی زمانے سے معصوم بچوں کو ترس رہی ہیں ، وہ صرف پیسے کمانے اور لوگوں کا دل لبھانے کی مشینیں بن کے رہ گئی ہیں، معاشرہ اب بھی انہیں کسی بڑی ذمے داری دینے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہے، اور ان کی غیر بارآوری کے نتیجے میں قوم کی افرادی قوت بھی مسلسل گھٹتی چلی جارہی ہے۔ چنانچہ اب جاکر انہیں صحیح انداز ہوا کہ یہ تو سب کچھ غلط ہو گیا! چکہ الٹا گھوم گےا ہے ۔ اسلئے دہائی دی کہ ” مژگاں تو کھول ، شہر کو سیلاب لے گیا“ اور یہ کہ
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جوسناافسانہ تھا
اب سب کے ہاں خطرے کی گھنٹیاں بجنی شروع ہوگئیں۔ ان کے اہم مفکرمرد و خواتین چینخنے لگے کہ اس طرح تو حریف مسلم تہذیب ان پر حاوی ہو جائے گی اور اپنے ہی شہرمیں وہ اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے!۔
چنانچہ اب وہاں’ واپس گھر کو چلو‘ ، ’اور آبادی میں اضافہ کرو ‘ جیسی مہمیں دوبارہ اٹھنی شروع ہوگئیں۔ فرانس میں بھی ایک کمزور سی تحریک حالیہ زمانے میں اسی طرح کی شروع ہوئی : ”واپس گھر کو چلو“۔گویا لوٹ کر اب یہ عورتیں دوبارہ اپنے گھروں کو رونق بخشنا چاہ رہی ہیں۔
یہ وہ مرحلہ وار تفصیل تھی جن سے گذر کر مغربی خوا تین آج اس موجودہ دور تک پہنچی ہیں۔ خود تو انہوں نے اپنے آپ کو برباد ہی کیا، لیکن دنیا بھر کی خواتین کو بھی جہنم کی آگ میں جھونک دیا ۔
جامعیت کے ساتھ اب یہ کہنا بہت درست ہے کہ خواتین کے حقوق کے بارے میں کچھ بھی کہا جائے ، کچھ بھی اقدام کیئے جائیں، کتنی ہی کتابیں لکھ لی جائیں ،اور کتنی ہی کانفرنسیں برپا کر لی جائیں، بہرحال یہ طے ہے کہ تحریک آزادی ¿ نسواں کا نتیجہ :
٭سوائے بدکاری ، گناہ ،اور شہوت پرستی کے کچھ اورنہیں نکلتا۔
٭ بہترین حقوق حاصل کرنے کے باوجود عورت بدترین مظالم کا شکار رہتی ہے۔
٭ اسے اپنے خاندان کی تباہی برداشت کرنی پڑتی ہے۔
٭سوائے صنفی ،استحصالی اور دلچسپ آلئہ کار کے سوا وہ اور کسی صورت میں معاشرے کے سامنے نہیں آتی۔ اور
٭آخری عمر میں اپنی قیمتی صحت کو برباد کرکے وہ تنہا ئے محض بھی رہ جاتی ہے اور عموماً خود کشی کرلیتی ہے
علامہ اقبال کے نظریات
ا س ضمن میں مناسب ہے کہ ہم علامہ اقبال کے نظریات کو بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ علامہ اقبال نے بیرونی دنیا میں تعلیم حاصل کرنے اور بہت کچھ وقت گزارنے کے باعث اُس دنیا کو اندر اور باہرسے بخوبی دیکھا اور پرکھا تھا۔ وہ خود کہتے ہیں کہ یہ مغرب کی فضا تھی جس نے انہیں مسلما ن بنایا ہے۔ اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث ان کی دور بین نگاہوں نے اسی دور میں بھانپ لیا تھا کہ جلد یا بدیر یہ مغربی تہذیب از خود فنا کے گھاٹ اتر جائے گی۔ چنانچہ مندرجہ ذیل یہ شعر انہوں نے اسی باعث کہا تھا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ بنے گا آشیانہ ، ناپائیدار ہو گا۔۔۔!
لندن و جرمنی میں رہائش کے دوران انہوں نے قدرتی طور پر وہاں کی عورتوں کی آزاد ی اور ان کے چال چلن کا بھی پوری طرح مشاہدہ کیا تھا۔ چنانچہ دوسرے دانشوروں کے برعکس ان کے خیالات خواتین کے بارے میں بہت حقیقی ہو گئے تھے ۔ متعدد مرتبہ انہوں نے مغربی خواتین اور ان کی بڑھتی ہوئی آزادی کے خلا ف برملا اظہا ر ِ رائے کےا تھا۔ان کے نزدیک مغربی خواتین آزادی نہیں حاصل کر رہی ہیں بلکہ خود دکشی کا راستہ اختیار کررہی ہیں۔اس تحریک کی ابتدا کے بارے میں انہوں نے تشریح کرتے ہوئے کہا تھاکہ (یورپ ) میں ”جنگ سے پہلے نہ یہ ذوقِ عریانی تھا (اور) نہ یہ حسن کے مقابلے ۔ یہ ( سب کچھ دراصل) جنگ کا نتیجہ ہیں۔ جنگ سے اگر ایک طرف صفاتِ عالئیہ کو تحریک ہوتی ہے تو دوسری جانب ادنیٰ سے ادنیٰ ، اور ِسفلی سے ِسفلی جذبات(بھی) ابھر آتے ہیں“۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”یوں بھی قتلِ اور خوں ریزی کا نتیجہ اجتماعی لحاظ سے ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ قومیں بے دریغ ایک دوسرے پر ظلم وستم کرتی ہیں ۔انسان جب بے دردی اور سفاکی کے ہولناک مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، تو سمجھتا ہے زندگی نام ہے محض غلبہ و تغلب کا۔ اس میں کوئی اخلاقی قانون کام نہیں کرتا۔ (اور) نہ دنیا کسی اخلاقی نظام کے سہارے چل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جنگ پر پابندیاں عائد کردیں اور ایسے قوانین وضع کردئیے جن سے اخلاقِ عالیہ کی حفاظت ہوتی ہے“۔ (کتاب۔ اقبال کے حضور میں۔ حصہ اول ۔صفحہ ۸۶۱۔نذیر نیازی ۔اقبال اکیڈمی ۔کراچی)
لندن کے دورے کے دوران انہوں نے وہاں کی مقامی خواتین کے ساتھ ایک اجتماع میں مغربی عورت کے بارے میں بڑے دکھ کے ساتھ کہا تھا کہ” افسوس اس قوم پر جس کی عورتیں Excitement کی تلاش میں رہتی ہیں“ ۔ پھر انہوں نے وہاں موجود خواتین سے یہ گذارش بھی کی تھی کہ انگلستان کی عورتوں کا فرض ہے کہ وہ (اپنی ) آئندہ نسل
کو دہریت اور مادیت کے چنگل سے بچائیں“۔ (سفر نامہ ¾ اقبال ۔ محمد حمزہ فاروقی ۔ صفحہ ۵۵،۱۵)۔ ایک اور موقعہ پر مسلم خواتین کے بارے میں انہوں نے یہ تجزیہ بھی کیا تھا کہ ” بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں مسلما ن خواتین (بھی) اپنا دین کھو رہی ہیں“۔ ( کتاب ۔ اوراق ِ گم گشتہ۔ رحیم بخش شاہین۔ صفحہ ۱۰۳۔ اسلامک پبلی کیشنز لمیٹڈ۔ لاہور)۔ علامہ کہنا چاہ رہے تھے کہ مسلمان کے ہاتھوں سے جب ان کی اصل بنیاد ، دین، ہی رخصت ہو جاتی ہے تو پھر دنیا کی ہر برائی اسے خوشنما لگنے لگتی ہے۔ جیسا کہ دنیا کا ماحول ہمیں ابتک بتا تا چلا آرہا ہے ۔علامہ نے عورتوں کے بارے میں ایک بار یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ ” وہ عورت جو کمالِ حسُن کے باوصف
پندارِ حسُن سے مطلق مبراہو ،(یعنی حسن رکھنے کے باوجود نازو غرورِ حسن سے مطلق بے نیاز ہو) ، میرے نزدیک وہ مخلوقات ِ ارضٰی میں دلکش ترین شے ہے۔“۔( کتاب ’ عروجِ اقبا ل‘ ۔ پروفیسر ڈاکٹر افتخار صدیقی۔ صفحہ ۴۷۳۔ طباعت ۷۸۹۱۔ بزمِ اقبال لاہور) ´ ۔ اپنے انہی جذبات کی مزید وضاحت علامہ نے ایک دوسرے شعر میں بھی یوں کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ
میں نے اے اقبال ، یورپ میں اسے ڈھونڈا عبث بات جو ہندوستان کے ماہ سیماﺅں میں تھی
چونکہ ہندوستان کی عورتیں شرم و حیا کی پیکر اور اپنی آبرو کی محافظ ہوا کرتی ہیں (یہ بھی ہمارے قدیم دور کے اوصاف تھے جو بہرحال اب اتنے مثالی نہیں رہے ہیں)، اسلئے مغرب کی آبرو باختہ و بے باک عورتوں میں مجھے ان مشرقی خواتین جیسی کوئی کشش قطعی نظر نہیں آئی۔ ذیل کے مزید اشعا ر بھی علامہ اقبال کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈلی قوم نے فلاح کی راہ
۔۔۔۔۔۔۔
دیکھئے دکھائے گا کیا یہ ڈرامہ
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
۔۔۔۔۔
زندہ کرسکتی ہے ایران وعرب کو کیونکر
یہ فرنگی مدنیّت جو ہے خود لب ِگور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب ”تحریکِ مساوات مرد وزن “ کا ایک باب ۔از رضی الدین سید

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Baidari.com. The Baidari.com does not assume any responsibility or liability for the same.


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں